صحیح بخاری حدیث ۶۲۲ - ابن ام مکتوم کی اذان تک کھانا پینا

ابن ام مکتوم کی اذان تک سحری کھانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۲

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ :

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بلال رات رہے میں اذان دیتے ہیں۔ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان تک تم (سحری) کھا پی سکتے ہو)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۲ کا خلاصہ

اس روایت میں سحری کے وقت کے بارے میں بہت آسان بات بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ رات باقی ہوتے ہوئے اذان دیتے ہیں، اس لیے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک کھانا پینا جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اس حدیث میں اصل توجہ اسی بات پر ہے کہ ہر اذان ایک ہی حکم کے لیے نہیں ہوتی تھی۔ ایک اذان جگانے اور خبردار کرنے کے لیے تھی، اور دوسری اذان فجر کے وقت کی خبر دیتی تھی۔ اس لیے سحری کا حکم سمجھنے میں جلدی یا گھبراہٹ کے بجائے صحیح نشانی کو دیکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات والی اذان اور فجر والی اذان میں فرق سمجھنا چاہیے۔
  • ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر کے وقت سے متعلق تھی۔
  • سحری کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی بتائی۔
  • عبادت میں وقت کی درست پہچان بہت ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں