صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۴ - آگ تمہاری دشمن ہے
آگ تمہاری دشمن ہے: گھر کی حفاظت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۹۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَحُدِّثَ بِشَأْنِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت جل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگ تمہاری دشمن ہے اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں آگ سے احتیاط کا سبق ایک واقعے کے ساتھ آتا ہے۔ مدینہ منورہ میں رات کے وقت ایک گھر جل گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔ یہاں حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: آگ فائدہ دیتی ہے، مگر غفلت کے وقت خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے سونے سے پہلے اسے بجھانا چاہیے۔ یہ حدیث گھر کی حفاظت، بچوں اور اہل خانہ کی سلامتی، اور رات کی احتیاط سے متعلق ہے۔ اس میں کوئی پیچیدہ حکم نہیں، بلکہ ایک سادہ عملی ہدایت ہے کہ نیند سے پہلے خطرے والی چیز کو قابو میں کر لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آگ کو فائدے کے ساتھ خطرے کی چیز بھی سمجھنا چاہیے۔
- رات کو سونے سے پہلے آگ بجھا دینا احتیاط ہے۔
- گھر کے حادثات سے بچنے کے لیے پہلے قدم اٹھانا ضروری ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعے پر عملی رہنمائی دی۔
