صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۵ - برتن ڈھانپیں، دروازے بند کریں
برتن ڈھانپنے اور چراغ بجھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۹۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ كَثِيرٍ هُوَ ابْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمِّرُوا الْآنِيَةَ ، وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ ، وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الْفَتِيلَةَ ، فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(سوتے وقت) برتن ڈھک لیا کرو ورنہ دروازے بند کر لیا کرو اور چراغ بجھا لیا کرو کیونکہ یہ چوہا بعض اوقات چراغ کی بتی کھینچ لیتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۵ کا خلاصہ
یہ حدیث رات کے وقت گھر کی حفاظت کے کئی عملی آداب بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برتن ڈھک لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور چراغ بجھا لیا کرو۔ پھر وجہ بھی بتائی کہ چوہا کبھی چراغ کی بتی کھینچ لیتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع گھر کی احتیاط ہے۔ اس میں کھانے پینے کی چیزوں کو محفوظ رکھنے، دروازے بند کرنے اور آگ کے خطرے کو ختم کرنے کا صاف پیغام ہے۔ الفاظ سادہ ہیں مگر فائدہ بہت عملی ہے۔ آج کے دور میں بھی یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ رات کو سونے سے پہلے گھر کا جائزہ لے لینا چاہیے: کھلی آگ، چراغ یا خطرناک چیز بے دھیانی میں نہ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوتے وقت چراغ یا آگ کو محفوظ کرنا چاہیے۔
- برتن ڈھانپنا اور دروازے بند کرنا گھریلو احتیاط ہے۔
- چوہے جیسی چھوٹی چیز بھی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- اسلام روزمرہ زندگی کی حفاظت بھی سکھاتا ہے۔
