صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۳ - سوتے وقت آگ نہ چھوڑیں
سوتے وقت آگ بجھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۹۳
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب سونے لگو تو گھر میں آگ نہ چھوڑو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۳ کا خلاصہ
یہ حدیث گھریلو حفاظت کے بارے میں بہت صاف ہدایت دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ نہ چھوڑو۔ اس مختصر فرمان میں ایک عملی احتیاط سکھائی گئی ہے۔ اس زمانے میں چراغ، آگ یا روشنی کے ایسے ذرائع استعمال ہوتے تھے جن سے خطرہ ہو سکتا تھا۔ حدیث میں اصل حکم یہ ہے کہ سونے سے پہلے آگ کو بے قابو حالت میں نہ چھوڑا جائے۔ آج بھی اس کا عام فہم مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ گھر کی حفاظت کے لیے خطرناک چیزوں کو بند یا محفوظ کیا جائے، مگر حدیث کے الفاظ خاص طور پر آگ کے بارے میں ہیں۔ آگ بجھانے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین صرف عبادت نہیں، گھر والوں کی حفاظت کی فکر بھی سکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوتے وقت گھر میں آگ کھلی حالت میں نہ چھوڑی جائے۔
- گھر والوں کی حفاظت کے لیے پہلے سے احتیاط کرنا چاہیے۔
- چھوٹی غفلت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو حفاظت کی واضح ہدایت دی۔
