صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۳ - غسل میت اور تین چٹیوں کا بیان
غسل میت کا مسنون طریقہ: طاق غسل، کافور اور چٹیاں
صحیح بخاری : ۱۲۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۶۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا " .
ام عطیہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو۔اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے کفن کے لیے) اپنا ازار عنایت کیا۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث غسل میت کی حدیث کے اہم الفاظ کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے طاق عدد میں غسل دو، تین یا پانچ مرتبہ، اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ۔ آخری غسل میں کافور یا تھوڑا سا کافور شامل کرنے کا حکم دیا گیا۔ جب غسل مکمل ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر دی گئی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ازار دیا۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بالوں کی تین چٹیاں بنا کر پیچھے ڈال دی گئیں۔ اس حدیث سے میت کے غسل، کفن اور بالوں کے بارے میں سادہ مگر واضح رہنمائی ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل میت میں طاق عدد کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینے کی ہدایت دی گئی۔
- آخری غسل میں کافور یا تھوڑا سا کافور شامل کیا گیا۔
- عورت کی میت کے بال تین چٹیوں میں گوندھے گئے۔
