صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۸ - جنازہ گزرے تو کھڑے رہو

جنازہ کے آداب: ساتھ نہ ہو تو بھی کھڑے ہو جاؤ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۰۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ جِنَازَةً فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا ، فَلْيَقُمْ حَتَّى يُخَلِّفَهَا أَوْ تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ " .

عامر بن ربیعہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہیں چل رہا ہے تو کھڑا ہی ہو جائے تاآنکہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے کی بجائے خود جنازہ رکھ دیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۸ کا خلاصہ

یہ حدیث جنازہ کے آداب کے بارے میں ایک واضح حکم بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے، اور وہ اس کے ساتھ چل نہیں رہا، تو کھڑا ہو جائے۔ پھر کھڑا رہے یہاں تک کہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے سے پہلے رکھ دیا جائے۔ اس حدیث میں خاص طور پر اس شخص کا ذکر ہے جو جنازہ کے ساتھ نہیں چل رہا۔ یعنی راستے میں جنازہ نظر آئے تو اسے عام گزرنے والی چیز نہ سمجھا جائے۔ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی حدیث ہمیں سنجیدگی، موت کی یاد، اور میت کے معاملے میں ادب سکھاتی ہے۔ یہاں عمل کی حد بھی صاف بتا دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جو شخص جنازہ کے ساتھ نہ چل رہا ہو، اسے بھی کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا۔
  • کھڑے رہنے کی حد جنازہ کے گزرنے یا رکھے جانے تک ہے۔
  • جنازہ کو معمولی گزرگاہی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث جنازہ کے موقع پر ادب اور توجہ کی تعلیم دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں