صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۰ - جنازہ کے ساتھ کب بیٹھنا ہے
جنازہ دیکھنے اور ساتھ چلنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۰ کا خلاصہ
یہ حدیث جنازہ دیکھنے اور جنازہ کے ساتھ چلنے کے آداب کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ پھر فرمایا کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔ اس سے دو باتیں صاف معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ جنازہ دیکھنے پر سنجیدگی سے کھڑا ہونا ہے، دوسری یہ کہ جو شخص ساتھ چل رہا ہے وہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھنے میں جلدی نہ کرے۔ یہ حدیث جنازہ کی عزت، موت کی یاد، اور اجتماعی ادب کی تعلیم دیتی ہے۔ اس میں عمل کی حد بھی صاف الفاظ میں بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنازہ دیکھنے پر کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا۔
- جنازہ کے ساتھ چلنے والا جنازہ رکھے جانے تک نہ بیٹھے۔
- جنازہ کے معاملے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- یہ حدیث جنازہ کے آداب کو واضح اور مختصر انداز میں بتاتی ہے۔
