صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۹ - قبر پر نماز جنازہ اور چار تکبیریں

قبر پر نماز جنازہ کی حدیث: صفیں اور چار تکبیریں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۹

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ , وَكَبَّرَ أَرْبَعًا " ، قُلْتُ : يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .

شعبی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۹ کا خلاصہ

یہ حدیث قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کے واقعے سے متعلق ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو دوسری قبروں سے الگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ راوی نے پوچھا کہ یہ حدیث کس نے بیان کی، تو جواب ملا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ اس حدیث میں اصل بات قبر کے پاس صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھنا اور چار تکبیریں کہنا ہے۔ اس میں میت کی شناخت یا دیگر تفصیلات بیان نہیں ہوئیں، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جانی چاہیے۔ نماز جنازہ کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت چار تکبیروں کے ذکر کی وجہ سے اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک الگ قبر پر تشریف لائے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نماز کے لیے صف بندی کی۔
  • اس روایت میں چار تکبیریں کہنے کا ذکر ہے۔
  • حدیث میں جو تفصیل نہیں آئی، اسے اپنی طرف سے شامل نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں