صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۳ - نجاشی کی نماز جنازہ اور چار تکبیریں
نجاشی کی نماز جنازہ: صف بندی اور چار تکبیریں
صحیح بخاری : ۱۳۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۳۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " .
ابوہریرہ روایت:
نجاشی کا جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عیدگاہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف بندی کرائی اور چار تکبیریں کہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نجاشی کی نماز جنازہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم صحابہ کے ساتھ عیدگاہ گئے، صف بندی کرائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ اس روایت میں تین باتیں واضح ہیں: وفات کی خبر، عیدگاہ جانا، اور نماز جنازہ میں چار تکبیریں۔ اسی وجہ سے جو لوگ نجاشی کی جنازہ حدیث، غائبانہ نماز جنازہ، یا جنازہ کی تکبیرات تلاش کرتے ہیں، انہیں یہ روایت خاص طور پر ملتی ہے۔ یہاں متن میں صرف عمل بیان ہوا ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی عمل تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا۔
- صحابہ کے ساتھ عیدگاہ جا کر صف بندی کرائی گئی۔
- نماز جنازہ میں چار تکبیروں کا عمل اس روایت میں صاف موجود ہے۔
