صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۵ - نماز جنازہ
نماز جنازہ میں چار تکبیریں: نجاشی کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۴۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن اس کی وفات ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ گئے۔ اور لوگوں کے ساتھ صف باندھ کر (جنازہ کی نماز میں) چار تکبیریں کہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز جنازہ کے ایک خاص واقعے کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن اس کی وفات ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لے گئے، لوگوں نے صف باندھی اور آپ صلى الله عليه وسلم نے جنازے کی نماز میں چار تکبیریں کہیں۔ اس سے ہمیں نماز جنازہ کی سادگی اور جماعت کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ میت کی خبر دینا بھی اس روایت میں موجود ہے، تاکہ مسلمان اس کے حق میں دعا اور جنازے میں شریک ہو سکیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جنازہ ایک دعائیہ عمل ہے، جس میں لوگ صف بنا کر اللہ سے میت کے لیے خیر مانگتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کی خبر مسلمانوں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
- نماز جنازہ جماعت اور صف کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
- اس روایت میں جنازے کی چار تکبیروں کا ذکر ہے۔
- مسلمان میت کے لیے دعا اور جنازے کا اہتمام کرتے ہیں۔
