صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۴ - شہادت اور غم
شہید پر فرشتوں کا سایہ اور غم کا فطری اظہار
صحیح بخاری : ۱۲۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۴۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " ، تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتا تھا۔ دوسرے لوگ تو مجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔ جب تک تم لوگ میت کو اٹھاتے نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔اس روایت کی متابعت شعبہ کے ساتھ ابن جریج نے کی، انہیں ابن منکدر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع شہید کے مقام اور غم کے وقت نرمی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ اپنے والد کے چہرے سے کپڑا ہٹاتے اور روتے تھے۔ لوگ انہیں روک رہے تھے، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں منع نہیں فرمایا۔ جب ان کی چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم روؤ یا نہ روؤ، جب تک تم میت کو اٹھاتے نہیں فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات غم کا اظہار فطری ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زبان سے ایسی بات نہ نکلے جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم کے وقت آنسو آنا فطری بات ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کو اس موقع پر رونے سے منع نہیں فرمایا۔
- حدیث میں شہید کے لیے فرشتوں کے سایہ کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- میت کے پاس ادب، دعا اور ضبط کا رویہ مناسب ہے۔
