حدیث ۲۰۹۶
صحیح مسلم : ۲۰۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۹۶
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا " .
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ روایت کی مجھ سے اس شخص نے جس کو میں سچا جانتا ہوں۔ مراد اس شخص سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، کہ ایک بار سورج گہن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بڑی دیر کھڑے رہے، اس طرح کہ ایک بار کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے۔ غرض پڑھتے دو رکعت کہ ہر رکعت میں تین رکوع ہوتے اور دونوں رکعتوں میں چار سجدے۔ اور جب فارغ ہوئے آفتاب صاف ہو گیا اور جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر رکوع میں جاتے اور جب سر اٹھاتے «سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ» کہتے اور بعد نماز خطبہ پڑھنے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی۔ پھر فرمایا کہ ”سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کے سبب گہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ ان سے اللہ ڈراتا ہے پھر جب تم گہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو یہاں تک کہ دونوں صاف ہو جائیں۔“
