صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۵ - اپنی جان لینے والے کا انجام
اپنی جان لینے کی حدیث: خودکشی کے انجام سے سخت خبرداری
صحیح بخاری : ۱۳۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ ، وَالَّذِي يَطْعُنُهَا يَطْعُنُهَا فِي النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص خود اپنا گلا گھونٹ کر جان دے ڈالتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جو برچھے یا تیر سے اپنے تئیں (آپ کو) مارے وہ دوزخ میں بھی اس طرح اپنے (آپ کو) تئیں مارتا رہے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان لینے کے انجام کو بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔ جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر جان دے، وہ جہنم میں بھی اسی طرح گلا گھونٹتا رہے گا۔ اور جو شخص برچھے یا تیر جیسی چیز سے خود کو مارے، وہ دوزخ میں بھی اسی طرح اپنے آپ کو مارتا رہے گا۔ حدیث کا مقصد انسان کو اس عمل کی سنگینی سمجھانا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دنیا کا ایک غلط قدم آخرت میں سخت پکڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل توجہ یہ ہونی چاہیے کہ انسان اپنی جان کے معاملے میں حد سے نہ بڑھے اور اللہ کے حکم سے ڈرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی جان لینا سخت وعید والا عمل ہے۔
- جس طریقے سے انسان اپنی جان لیتا ہے، حدیث میں اسی سے عذاب کا ذکر آیا ہے۔
- جان کے معاملے میں انسان کو اللہ کے حکم سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
