صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۳ - جھوٹی قسم اور اپنی جان لینے کی وعید
جھوٹی قسم کی حدیث: اسلام کے سوا دین کی جھوٹی نسبت سے بچیں
صحیح بخاری : ۱۳۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا , مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .
ثابت بن ضحاک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ اس نے اپنے لیے کہا ہے اور جو شخص اپنے کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بہت صاف بیان ہوئی ہیں: جھوٹی قسم اور اپنی جان لینے کا انجام۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے اپنے لیے کہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان کی حفاظت بہت ضروری ہے، خاص طور پر قسم کے معاملے میں۔ قسم کوئی کھیل یا غصے کا جملہ نہیں۔ اسی حدیث میں یہ بھی آیا کہ جو شخص دھار دار چیز سے اپنی جان لے، اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا۔ اس لیے اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی زبان، ایمان کی نسبت اور اپنی جان کے معاملے میں بہت محتاط رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کے سوا کسی دین کی جھوٹی قسم کھانا بہت خطرناک بات ہے۔
- جان بوجھ کر جھوٹ بول کر قسم کھانا زبان کا سنگین غلط استعمال ہے۔
- اپنی جان لینا سخت وعید کا سبب بتایا گیا ہے۔
