صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۲ - تقدیر کے باوجود عمل چھوڑنا نہیں
تقدیر اور عمل کی حدیث: نیک عمل کی طرف قدم بڑھائیں
صحیح بخاری : ۱۳۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ , وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ , ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ، قَالَ : أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5 " .
علی روایت:
ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گی یا بدبخت۔اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہو گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآية۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں تقدیر اور عمل کا صاف سبق ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جان کے لیے جنت یا دوزخ کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بدبخت۔ صحابی نے پوچھا کہ پھر کیا ہم عمل چھوڑ کر تقدیر پر بھروسہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نیک بخت لوگوں کے لیے نیکی کے کام آسان کیے جاتے ہیں، اور بدبخت لوگوں کے لیے برے کام آسان ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کا عقیدہ انسان کو سستی نہیں سکھاتا۔ ہمیں اچھے کام، تقویٰ اور اللہ کی اطاعت کی طرف کوشش کرنی ہے۔ حدیث کے آخر میں سورۃ اللیل کی آیت «فأما من أعطى واتقى» بھی پڑھی گئی، جس میں دینے اور تقویٰ کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر پر ایمان کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
- عمل چھوڑنا اس حدیث کے جواب کے خلاف ہے۔
- نیکی کی طرف آسانی ملنا اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
