صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۱ - پیشاب سے پاکی اور چغل خوری سے بچاؤ
عذاب قبر کی حدیث: پیشاب سے پاکی اور چغل خوری سے بچنے کا سبق
صحیح بخاری : ۱۳۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ , فَقَالَ : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ : لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسی دو قبروں پر ہوا جن میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو عذاب کسی بہت بڑی بات پر نہیں ہو رہا ہے صرف یہ کہ ان میں ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری ڈالی لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید اس وقت تک کے لیے ان پر عذاب کچھ ہلکا ہو جائے جب تک یہ خشک نہ ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عذاب قبر، پیشاب سے پاکی اور چغل خوری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور بتایا کہ دونوں کو عذاب ہو رہا ہے۔ ایک شخص پیشاب سے بچنے میں احتیاط نہیں کرتا تھا، اور دوسرا لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کام ہمیں معمولی لگتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں ان کا معاملہ سخت ہو سکتا ہے۔ پیشاب کی پاکی نماز اور طہارت سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اس میں لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح چغل خوری رشتوں میں خرابی ڈالتی ہے۔ اس حدیث میں ہری ڈالی رکھنے کا واقعہ بھی آیا ہے، جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید خشک ہونے تک عذاب میں کچھ کمی ہو جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیشاب سے پاکی میں احتیاط کرنا دین کا سنجیدہ مسئلہ ہے۔
- چغل خوری انسانوں کے درمیان فساد کا سبب بنتی ہے۔
- بعض چھوٹے سمجھے جانے والے گناہ آخرت میں سخت گرفت کا سبب بن سکتے ہیں۔
