صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۰ - ابوطالب کو کلمہ کی دعوت

لا الہ الا اللہ کی دعوت: ابوطالب کے آخری وقت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۰

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ " لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ : " يَا عَمِّ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ , وَيَعُودَانِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ : آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ سورة التوبة آية 113 " .

مسیب بن حزن روایت:

جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ چچا! آپ ایک کلمہ «لا إله إلا الله» (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کہہ دیجئیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے۔ ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ تاآنکہ مجھے منع نہ کر دیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان للنبي‏» الآية نازل فرمائی۔ (التوبہ: 113

صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوطالب کے آخری وقت کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چچا! لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے، تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ مگر ابوجہل اور ابن ابی امیہ بار بار کہتے رہے کہ کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ پیش کرتے رہے، مگر ابوطالب کی آخری بات یہی رہی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ لا الہ الا اللہ کی دعوت والی حدیث ہمیں آخری وقت میں ایمان، صحبت اور حق قبول کرنے کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے خیر خواہی کے ساتھ کلمہ کی دعوت دی۔
  • برے ساتھی حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
  • ابوطالب نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے استغفار کا ارادہ کیا، پھر آیت کے ذریعے ممانعت آئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں