صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۵ - ابو طالب اور کلمہ توحید

ابو طالب کی وفات کی حدیث: لا الہ الا اللہ کی دعوت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۷۵

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ ، دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْ عَمِّ ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ، فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 " .

مسیب بن حزن روایت:

جب ابوطالب کے انتقال کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، اس وقت وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ (آپ ایک بار زبان سے کلمہ) لا الہٰ الا اللہ کہہ دیجئیے میں اسی کو (آپ کی نجات کے لیے وسیلہ بنا کر) اللہ کی بارگاہ میں پیش کر لوں گا۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ ابی امیہ کہنے لگے: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اب میں آپ کے لیے برابر مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے روک نہ دیا جائے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين ولو كانوا أولي قربى من بعد ما تبين لهم أنهم أصحاب الجحيم‏» کہ ”نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ اگرچہ وہ (مشرکین) رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ جب ان پر یہ ظاہر ہو چکے کہ وہ (یقیناً) اہل دوزخ سے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع کلمہ توحید اور مغفرت کی دعا کا حکم ہے۔ ابو طالب کے آخری وقت نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ وہاں ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی موجود تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ابو طالب سے فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں تاکہ آپ صلى الله عليه وسلم اللہ کے سامنے ان کے حق میں بات پیش کر سکیں۔ مگر ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ انہیں عبدالمطلب کے دین پر رہنے کی بات کہتے رہے۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تک منع نہ کیا جائے گا، میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی کہ نبی اور ایمان والوں کے لیے مشرکین کے لیے مغفرت مانگنا درست نہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی ہوں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری وقت تک ابو طالب کو کلمہ کی دعوت دی۔
  • لا الہ الا اللہ کی اہمیت اس روایت میں صاف بیان ہوئی ہے۔
  • رشتہ داری کے باوجود مغفرت کی دعا کا حکم وحی کے تابع ہے۔
  • غلط صحبت انسان کو حق قبول کرنے سے روک سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں