صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۵ - تقدیر کے باوجود عمل کرو
تقدیر کے باوجود عمل کرو: ہر شخص کے لیے راستہ آسان ہے
صحیح بخاری : ۶۶۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۵
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5 الْآيَةَ " .
علی روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی اثناء میں) فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا جہنم کا یا جنت کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، ایک مسلمان نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں عمل کرو کیونکہ ہر شخص (اپنی تقدیر کے مطابق) عمل کی آسانی پاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآیہ پس جس نے راہ للہ دیا اور تقویٰ اختیار کیا ... الخ۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر اور عمل ہے۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا جہنم یا جنت کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ پھر کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی آسان کیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ اللیل کی آیت تلاوت فرمائی: جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ اس حدیث میں صاف سبق ہے کہ تقدیر پر ایمان کے ساتھ عمل چھوڑنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر لکھی جا چکی ہے، مگر انسان کو عمل کا حکم دیا گیا ہے۔
- تقدیر کو عمل چھوڑنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔
- ہر شخص کے لیے ایک راستہ آسان کیا جاتا ہے۔
- دینا اور تقویٰ اختیار کرنا نیکی کے راستے سے جڑا ہے۔
