صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۴ - قیامت تک کی خبریں
قیامت تک کی خبریں: نبی صلى الله عليه وسلم کے خطبے کا بیان
صحیح بخاری : ۶۶۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَقَدْ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا تَرَكَ فِيهَا شَيْئًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ ، إِلَّا ذَكَرَهُ عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الشَّيْءَ قَدْ نَسِيتُ فَأَعْرِفُ مَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ إِذَا غَابَ عَنْهُ فَرَآهُ فَعَرَفَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی (دینی) چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور قیامت تک کی خبریں ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا خطبہ دیا جس میں قیامت تک کی کوئی دینی چیز نہیں چھوڑی مگر اس کا ذکر کیا۔ جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا، اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں کوئی بھولی ہوئی چیز دیکھتا ہوں تو اسے ایسے پہچان لیتا ہوں جیسے آدمی اپنی گم شدہ چیز دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔ اس حدیث میں علم، یادداشت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی جامعیت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے امور کا ذکر فرمایا۔
- صحابہ میں سے بعض نے اس علم کو یاد رکھا اور بعض بھول گئے۔
- دینی علم کو سن کر محفوظ رکھنا اہم ہے۔
- بھولی ہوئی بات کبھی کسی نشانی سے یاد آ سکتی ہے۔
