صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۶ - امانت اور ایمان کی حفاظت
امانت کی حدیث: دل، ایمان اور لین دین کا سچا معیار
صحیح بخاری : ۷۰۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ ، حَدَّثَنَا : " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ، وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا ، قَالَ : يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ ، فَتُقْبَضُ ، فَيَبْقَى فِيهَا أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ ، فَنَفِطَ ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ ، فَيُقَالُ : إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا ، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ : مَا أَعْقَلَهُ ، وَمَا أَظْرَفَهُ ، وَمَا أَجْلَدَهُ ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَلَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُ ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامُ ، وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا " .
حذیفہ روایت:
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احادیث فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے۔ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی تھی پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے سیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص ایک نیند سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرا لی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے، تم اس میں سوجن دیکھو گے لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا۔پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر ایک زمانہ گزر گیا اور میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس کے ساتھ میں لین دین کرتا ہوں اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرے حق کے ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کے حاکم لوگ اس کو دباتے ایمانداری پر مجبور کرتے۔ لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں لوگوں سے ہی لین دین کرتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امانت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا اور سنت سے سیکھا۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ امانت صرف کاروباری وعدہ نہیں بلکہ دل کی حالت ہے۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ امانت آہستہ آہستہ دل سے اٹھائی جائے گی، پہلے اس کا نشان دھبے جیسا رہ جائے گا، پھر آبلے جیسا؛ باہر سوجن نظر آئے گی مگر اندر کچھ نہ ہوگا۔ پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے مگر امانت ادا کرنے والا کم ملے گا۔ اس لیے امانت کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ لین دین، وعدہ، حق کی ادائیگی اور ایمان آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ صرف عقل، خوش گفتاری یا دلیری کافی نہیں جب دل میں ایمان اور امانت باقی نہ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت دل کی صفت ہے، صرف زبانی دعویٰ نہیں۔
- قرآن اور سنت امانت کو سمجھنے اور سنبھالنے کا ذریعہ ہیں۔
- لین دین میں امانت کمزور ہو تو معاشرے کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
- ظاہری خوبیوں سے پہلے دل کے ایمان اور امانت کو دیکھنا چاہیے۔
