صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۷ - فتنہ کے وقت دیہات میں رہنے کی اجازت
دیہات میں رہنے کی حدیث: اجازت، فتنہ اور دین کی حفاظت
صحیح بخاری : ۷۰۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ " ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، خَرَجَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ إلَى الرَّبَذَةِ ، وَتَزَوَّجَ هُنَاكَ امْرَأَةً ، وَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِلَيَالٍ ، فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ .
سلمہ بن الاکوع روایت:
وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے۔ وہ برابر وہیں پر رہے، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ حجاج نے ان سے پوچھا کہ کیا تم گاؤں میں رہنے لگے اور الٹے پاؤں پھر گئے؟ انہوں نے صاف جواب دیا کہ ایسا نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے بات واضح ہوتی ہے کہ کسی شخص کے رہنے کی جگہ دیکھ کر فوراً سخت حکم نہیں لگانا چاہیے، خاص طور پر جب اس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت یا شرعی وجہ موجود ہو۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ ربذہ چلے گئے، وہاں شادی کی، اولاد ہوئی، اور وفات سے کچھ دن پہلے مدینہ واپس آئے۔ دیہات میں رہنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ فتنہ کے ماحول میں جگہ بدلنا بذات خود دین سے دوری نہیں؛ اصل دیکھنے کی چیز ایمان، اجازت اور نیت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان پر جلدی سے سخت الزام نہیں لگانا چاہیے۔
- رہائش کی جگہ بدلنا لازماً دین سے دوری نہیں ہوتا۔
- فتنہ کے زمانے میں انسان اپنے دین کی حفاظت کے لیے محتاط فیصلہ کر سکتا ہے۔
- صحابی کا جواب مختصر مگر واضح تھا: اجازت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے تھی۔
