صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۵ - فتنہ میں قتال
فتنہ میں قتال کی حدیث: شرک، جنگ اور نیت کا فرق
صحیح بخاری : ۷۰۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا ، قَالَ : فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ ، وَاللَّهُ يَقُولُ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193 ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟ ، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ " .
سعید بن جبیر روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟
صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زمانہ فتنہ میں قتال کے بارے میں پوچھا اور آیت پیش کی کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ کیا تم جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ پھر بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے فتنہ اٹھانے کے لیے جنگ کرتے تھے، اور ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا۔ پھر انہوں نے صاف فرق بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے نہیں تھی۔ فتنہ میں قتال کی حدیث ہمیں بہت اہم احتیاط سکھاتی ہے: قرآن کی آیت کو اپنے سیاسی یا دنیاوی مقصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اصل فرق شرک سے بچانے والی جنگ اور اقتدار کے لیے لڑائی کے درمیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت کا مطلب سمجھنے کے لیے صحابہ کی وضاحت اہم ہے۔
- اس روایت میں فتنہ سے مراد شرک میں پڑنا بیان ہوا ہے۔
- اقتدار کے لیے لڑائی کو نبوی قتال جیسا نہیں کہا جا سکتا۔
- دینی دلیل کو اپنے دنیاوی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
