صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۸ - فتنہ سے دین کی حفاظت

فتنہ سے بچنے کی حدیث: دین کی حفاظت سب سے پہلے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام فتنہ سے دین کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں کی طرف لے جائے گا، تاکہ فتنوں سے اپنے دین کو بچا سکے۔ یہاں اصل زور مال پر نہیں بلکہ دین کی سلامتی پر ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر حال میں لوگوں سے الگ ہونا لازم ہے، بلکہ اس میں ایک خاص وقت اور خاص حالت کا ذکر ہے جب فتنہ دین کے لیے خطرہ بن جائے۔ فتنہ سے بچنے کی حدیث ہمیں سادہ انداز میں سمجھاتی ہے کہ اگر ماحول ایمان کو نقصان دے رہا ہو تو انسان کو اپنے دین کی فکر کرنی چاہیے۔ مال، رہائش اور سہولتیں بعد کی چیزیں ہیں؛ ایمان کی حفاظت پہلے ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی حفاظت مسلمان کی بڑی فکر ہونی چاہیے۔
  • فتنہ کے خطرے میں ماحول بدلنا ایک احتیاط ہو سکتی ہے۔
  • مال کی قدر اس وقت ہے جب وہ دین بچانے میں مدد دے۔
  • حدیث خاص حالت بیان کرتی ہے، ہر شخص کے لیے عمومی تنہائی کا حکم نہیں دیتی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں