صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۷ - جب فجر ظاہر ہو تو سحری ختم

فجر پھوٹنے تک سحری کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۷

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَوَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ ، حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ ، أَوَ قَالَ : حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس روایت میں ہے کہ جب فجر شروع ہو یا جب فجر پھوٹے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۷ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی ندا یا اذان سے روزہ دار سحری سے باز نہ رہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ساتھ ہی اس سفید روشنی کا ذکر فرمایا جو شروع میں دکھائی دیتی ہے، اور بتایا کہ اصل اعتبار فجر کے ظاہر ہونے یا پھوٹنے کا ہے۔ اس سے سحری کے وقت کا ایک آسان اصول سمجھ آتا ہے: جب تک صحیح فجر نہ ہو، محض ابتدائی سفیدی فیصلہ کن نہیں۔ اس حدیث میں نہ کوئی لمبی شرط ہے اور نہ مشکل زبان؛ بس روزہ دار کو ایک صاف نشان دیا گیا ہے۔ فجر صادق کی حدیث، سحری کا وقت، اور اذان بلال کا مقصد اسی ایک بات پر جمع ہیں کہ روزہ صحیح وقت پر شروع کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلال رضی اللہ عنہ کی ندا کو سحری روکنے کی آخری حد نہیں بتایا گیا۔
  • حدیث میں فجر کے ظاہر ہونے یا پھوٹنے کو اصل نشان کہا گیا۔
  • روزہ دار کو سحری کے وقت واضح فجر کا انتظار سمجھایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں