صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۶ - افق پر پھیلی روشنی کی پہچان
سحری کا وقت: لمبی سفیدی نہیں، پھیلی ہوئی فجر
صحیح مسلم : ۲۵۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۶
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا ، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " ، وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ ، قَالَ : يَعْنِي مُعْتَرِضًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس روایت میں یہ ہے کہ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اس کی حالت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یعنی پھیلی ہوئی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۶ کا خلاصہ
اس روایت میں پھیلی ہوئی روشنی کو فجر کی علامت بتایا گیا ہے۔ حماد نے ہاتھوں سے اشارہ کر کے سمجھایا کہ افق کی لمبی، اوپر اٹھتی ہوئی سفیدی کافی نہیں، بلکہ جب روشنی چوڑائی میں پھیل جائے تو وہ اصل صبح ہے۔ اس حدیث میں سحری کا وقت بہت عام فہم انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ روزہ دار کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اذان بلال رضی اللہ عنہ رات کی اطلاع تھی، سحری بند کرنے کی آخری علامت نہیں۔ اس لیے جو شخص سحری کے بارے میں حدیث تلاش کرتا ہے، اسے یہاں بنیادی بات ملتی ہے: صبح کاذب اور فجر صادق میں فرق ہے، اور فجر صادق افق پر پھیلنے والی روشنی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لمبی عمودی سفیدی کو فجر صادق نہیں بتایا گیا۔
- پھیلی ہوئی روشنی اصل صبح کی علامت ہے۔
- سحری کا فیصلہ واضح فجر پر ہونا چاہیے، محض گمان پر نہیں۔
