صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۵ - صبح کے ستون سے دھوکا نہ کھائیں
صبح کا سفید ستون اور فجر صادق کا فرق
صحیح مسلم : ۲۵۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۵
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ ، الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " .
سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکا نہ دے تم کو اذان بلال کی اور یہ سفیدی صبح کا ستون جب تک کہ وہ اس طرح چوڑی نہ ہو جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۵ کا خلاصہ
یہ روایت بتاتی ہے کہ روزہ دار کو سحری کے وقت دو چیزوں سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان، اور صبح کا وہ سفید ستون جو اوپر کو دکھائی دیتا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تک سفیدی پھیل نہ جائے، اسے اصل صبح نہ سمجھا جائے۔ اس میں سحری کی حدیث کا عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ ایک مسلمان کو روزہ شروع کرنے کے وقت میں صحیح علامت کو دیکھنا چاہیے۔ حدیث میں زیادہ تفصیل نہیں، مگر پیغام بالکل صاف ہے: سحری کا تعلق فجر صادق سے ہے، اور فجر صادق پھیلتی ہوئی روشنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین نے روزہ دار کو اندازوں پر نہیں چھوڑا بلکہ آسان نشان بتا دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبح کی ستون جیسی سفیدی کو فیصلہ کن علامت نہیں کہا گیا۔
- فجر صادق کی پہچان روشنی کا پھیل جانا ہے۔
- سحری کے وقت میں احتیاط کا مطلب صحیح علامت سمجھنا ہے۔
