صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۴ - سحری میں جلد بازی نہ کریں
سحری کب بند کریں؟ صبح صادق کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۵۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۴
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ " .
سمرہ روایت:
میں نے سنا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”کوئی بلال کی اذان سے دھوکا کھا کر سحر کھانے سے باز نہ رہے اور نہ یہ سفیدی (جو نیزے کی طرح بلند ہے کہ صبح ہے بلکہ صبح وہ ہے) جو پھیلی ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سحری کے وقت کے بارے میں ایک واضح تنبیہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، اور وہ سفیدی بھی دھوکا نہ دے جو نیزے یا ستون کی طرح اوپر اٹھتی ہے۔ اصل صبح وہ ہے جو افق پر پھیل جائے۔ یہ بات روزہ دار کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ رمضان میں سحری کا صحیح وقت جاننا عام ضرورت ہے۔ حدیث کا پیغام آسان ہے: سحری کے معاملے میں ہر سفید روشنی کو فجر صادق نہ سمجھا جائے۔ جب تک روشنی پھیل نہ جائے، وہ وہی صبح نہیں جس سے روزہ کا وقت شروع سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح اذان بلال کی حدیث، صبح کاذب اور فجر صادق کا فرق سادہ انداز میں واضح ہو جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان بلال رضی اللہ عنہ سحری روکنے کی آخری علامت نہیں تھی۔
- نیزے کی طرح اوپر اٹھنے والی سفیدی کو اصل صبح نہیں بتایا گیا۔
- فجر صادق افق پر پھیلتی ہے، اسی کا اعتبار ہے۔
