صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۸ - سحری اور فجر کی وہی واضح تعلیم
اذان بلال اور فجر صادق کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۲۵۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۸
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ هَذَا .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۸ کا خلاصہ
یہ روایت پہلے بیان ہونے والے مضمون ہی کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔ اس میں اصل بات یہی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان یا شروع کی سفیدی سحری ختم کرنے کی آخری علامت نہیں۔ روزہ دار کو فجر کے ظاہر ہونے کا اعتبار کرنا ہے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ایک ہی بات کئی سندوں سے آئی، جس سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ عام مسلمان کے لیے پیغام سادہ ہے: سحری کا وقت سمجھتے ہوئے اذان، سفیدی اور فجر صادق کے فرق کو نظر میں رکھا جائے۔ حدیث میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اصل صبح کے آنے تک سحری سے نہ رکا جائے۔ اس لیے اسے سحری کی حدیث اور فجر صادق کی پہچان کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون دوسری سند سے بھی نقل ہوا ہے۔
- اصل پیغام یہی ہے کہ سحری کا تعلق فجر صادق سے ہے۔
- ابتدائی سفیدی اور اصل صبح میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
