صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۹ - سحری میں برکت ہے

سحری کی حدیث: سحری میں برکت ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، سحری میں برکت ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام بہت مختصر مگر دل کو لگنے والا ہے: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یہاں سحری کو روزے کے معمول کا اچھا حصہ بتایا۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ سحری میں خاص کھانا لازم ہے، بلکہ اصل بات سحری کھانے کی ترغیب ہے۔ رمضان میں بہت سے لوگ نیند یا سستی کی وجہ سے سحری چھوڑ دیتے ہیں، مگر یہ سحری کی حدیث بتاتی ہے کہ اس عمل میں برکت رکھی گئی ہے۔ برکت کا لفظ حدیث ہی میں آیا ہے، اس لیے ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے۔ آسان الفاظ میں، روزہ شروع کرنے سے پہلے سحری کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی خیر والی عادت ہے، جسے معمولی سمجھ کر چھوڑنا مناسب نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سحری کھانے کی واضح ترغیب دی گئی ہے۔
  • حدیث کے الفاظ کے مطابق سحری میں برکت ہے۔
  • سحری کو روزے کے اچھے معمول کے طور پر اپنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں