صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۰ - مسلمانوں کے روزے کی پہچان
سحری: ہمارے روزے کی خاص پہچان
صحیح مسلم : ۲۵۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ " ،
عمرو بن عاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں سحری کے لقمہ کا فرق ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان ایک فرق بیان فرمایا: سحری کا لقمہ۔ یہاں سحری کو صرف کھانے کے طور پر نہیں، بلکہ امت محمدیہ کے روزے کی ایک پہچان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ حدیث کا مطلب اتنا ہی ہے کہ مسلمانوں کے روزے میں سحری ایک خاص امتیازی بات ہے۔ اس لیے سحری کی حدیث، روزہ کی سنت، اور اہل کتاب کے روزے کا فرق جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون سے جڑتے ہیں۔ ہمیں اس سے اتنا سبق لینا چاہیے کہ سحری کو اہم سمجھا جائے، خواہ کھانا کم ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث میں مقدار کی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سحر کے وقت کھانے کا عمل ہمارے روزے کی جدا پہچان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کو مسلمانوں کے روزے کی امتیازی بات بتایا گیا۔
- حدیث میں سحری کے لقمے کا خاص ذکر ہے۔
- سحری کم ہو تب بھی اسے اہم عمل سمجھنا چاہیے۔
