صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۱ - سحری کے فرق کی تائیدی روایت
اہل کتاب کے روزے سے فرق: سحری کا لقمہ
صحیح مسلم : ۲۵۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۱
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان ایک فرق بیان فرمایا: سحری کا لقمہ۔ یہاں سحری کو صرف کھانے کے طور پر نہیں، بلکہ امت محمدیہ کے روزے کی ایک پہچان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ حدیث کا مطلب اتنا ہی ہے کہ مسلمانوں کے روزے میں سحری ایک خاص امتیازی بات ہے۔ اس لیے سحری کی حدیث، روزہ کی سنت، اور اہل کتاب کے روزے کا فرق جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون سے جڑتے ہیں۔ ہمیں اس سے اتنا سبق لینا چاہیے کہ سحری کو اہم سمجھا جائے، خواہ کھانا کم ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث میں مقدار کی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سحر کے وقت کھانے کا عمل ہمارے روزے کی جدا پہچان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- سحری کو روزے کی خاص علامت کے طور پر ذکر کیا گیا۔
- حدیث مقدار نہیں، اصل عمل کی اہمیت بتاتی ہے۔
