صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۲ - سحری اور فجر کے درمیان وقفہ
سحری کے بعد فجر تک کتنا وقت؟
صحیح مسلم : ۲۵۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ " ، قُلْتُ : " كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا ؟ " قَالَ : " خَمْسِينَ آيَةً " ،
زید روایت:
سحری کھائی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر کھڑے ہوئے نماز صبح کو میں نے کہا: دونوں کے بیچ میں کتنی دیر ہوئی۔ انہوں نے کہا: پچاس آیت کے موافق۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سحری اور نماز فجر کے درمیان وقت کی مقدار بیان ہوئی ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب پوچھا گیا کہ دونوں کے درمیان کتنا وقت تھا، تو جواب دیا گیا: پچاس آیتوں کے برابر۔ یہ سحری کا وقت سمجھنے کے لیے بہت آسان اشارہ ہے۔ حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر دن لازماً اتنا ہی وقفہ ہو، بلکہ واقعہ میں اتنی مقدار بیان ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری فجر کے قریب بھی کی جا سکتی ہے، پھر نماز کے لیے تیار ہوا جاتا ہے۔ سحری کی حدیث اور فجر کی نماز کا وقت یہاں ایک عملی مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سحری فجر کے قریب کی گئی۔
- سحری اور نماز کے درمیان پچاس آیتوں کے برابر وقفہ بیان ہوا۔
- حدیث روزہ دار کو سحری کے وقت کی عملی مثال دیتی ہے۔
