صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۸ - سو اونٹوں میں ایک سواری
لوگ اونٹوں کی طرح ہیں: قابل اعتماد انسان کم ہوتے ہیں
صحیح بخاری : ۶۴۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے قریب ہے کہ تو ان میں سے ایک کو بھی سواری کے قابل نہ پائے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی مثال اونٹوں جیسی ہے؛ قریب ہے کہ سو اونٹوں میں ایک بھی سواری کے قابل نہ ملے۔ اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر شخص دیکھنے میں ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر ہر شخص ذمہ داری، اعتماد اور فائدہ پہنچانے کے قابل نہیں ہوتا۔ جیسے بہت سے اونٹ موجود ہوں مگر سفر کے لیے مضبوط، تربیت یافتہ اور مناسب اونٹ کم ملتا ہے، اسی طرح انسانوں میں بھی اصل دیانت، مضبوطی اور قابل اعتماد کردار کم ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں لوگوں کے بارے میں جلد بازی سے بچاتی ہے۔ ہر چمکتی چیز قابل بھروسہ نہیں ہوتی، اور ہر شخص پر بڑی ذمہ داری ڈالنا مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قابل اعتماد اور ذمہ دار لوگ ہر جگہ بہت زیادہ نہیں ہوتے۔
- ظاہر دیکھ کر کسی پر بڑی ذمہ داری نہیں ڈالنی چاہیے۔
- انسان کو خود بھی قابل اعتماد بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
