صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۹ - ریاکاری اور شہرت طلبی کا انجام
ریاکاری کی حدیث: دکھاوے کے عمل کا انجام
صحیح بخاری : ۶۴۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمَّعَ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي ، يُرَائِي اللَّهُ بِهِ " .
جندب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے آپ کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چنانچہ میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (کسی نیک کام کے نتیجہ میں) جو شہرت کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا۔ اسی طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کرے گا اللہ بھی قیامت کے دن اس کو سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شہرت کے لیے نیک کام کرے، اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا۔ اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کرے گا، اللہ بھی اسے لوگوں کو دکھلا دے گا۔ اس حدیث کا اصل موضوع ریاکاری، شہرت طلبی اور نیت کی خرابی ہے۔ نیک عمل ظاہری طور پر اچھا نظر آ سکتا ہے، مگر اگر مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف ہو تو عمل کی روح خراب ہو جاتی ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت، صدقہ، علم، خدمت یا کوئی بھی نیکی کرتے وقت دل کو دیکھنا ضروری ہے۔ لوگوں کی واہ واہ وقتی ہے، اصل معاملہ اللہ کے سامنے نیت کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی میں دکھاوا عمل کی نیت کو خراب کر سکتا ہے۔
- شہرت کے لیے عبادت کرنا خطرناک رویہ ہے۔
- نیک عمل میں اللہ کی رضا کو اصل مقصد بنانا چاہیے۔
