صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۵ - احرام نہ کھولنے کی وجہ
احرام نہ کھولنے کی حدیث: قربانی ساتھ لانے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۹۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۸۵
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ ؟ بِنَحْوِهِ .
حفصہ روایت:
کہا مسلم نے اور روایت کی ہم سے یہی حدیث ابن نمیر نے، ان سے خالد بن مخلد نے، ان سے مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا سبب ہے کہ آپ نے احرام نہ کھولا مانند اوپر کی روایت کے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے اسی مضمون کو ایک دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے احرام کیوں نہیں کھولا؟ روایت میں اشارہ ہے کہ جواب وہی ہے جو اوپر والی حدیث میں آیا: آپ صلى الله عليه وسلم نے قربانی کے جانور کو نشان زد کیا تھا اور سر کے بال جما لیے تھے، اس لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے قربانی تک احرام نہ کھولا۔ یہاں کوئی نیا حکم الگ سے بیان نہیں ہوا، بلکہ اسی بات کی سندی تائید ہے کہ قربانی ساتھ لانے والے کا احرام باقی رہتا ہے۔ حج تمتع، احرام، قربانی اور عمرہ کے بعد حلال ہونے کے مسئلے میں یہ حدیث بہت صاف طریقے سے اصل بات پر قائم رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی سوال کا جواب مختلف سندوں سے محفوظ ہوا۔
- قربانی ساتھ ہو تو احرام کھولنے کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔
- حج کے مسائل میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
