صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۴ - قربانی والے کا احرام
قربانی کے ساتھ احرام: نبی صلى الله عليه وسلم نے احرام کیوں نہ کھولا؟
صحیح مسلم : ۲۹۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۸۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ ، قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں نے اپنا احرام کھول ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر کے احرام کیوں نہیں کھولا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””میں نے اپنے سر کے بالوں کو خطمی وغیرہ سے جمایا ہے اور اپنی قربانی کے گلوں میں ہار ڈالے ہیں سو میں احرام نہ کھولوں گا جب تک کہ قربانی ذبح نہ کر لوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قربانی والے حاجی کا احرام ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ لوگوں نے احرام کھول دیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کے بعد احرام کیوں نہیں کھولا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈال دیے ہیں، اس لیے میں قربانی ذبح کرنے تک احرام نہیں کھولوں گا۔ اس حدیث میں حج کے ایک خاص عمل کی وجہ صاف بتائی گئی ہے۔ جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو، اس کا معاملہ اس شخص جیسا نہیں جس کے پاس قربانی نہ ہو۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ حج میں احرام کھولنے یا نہ کھولنے کا تعلق عمل کی حالت اور قربانی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی ساتھ لانے والے کے لیے احرام کا حکم الگ بیان ہوا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے عمل کی وجہ صاف الفاظ میں بتائی۔
- حج کے اعمال میں جلدی کے بجائے مقررہ ترتیب کا خیال رکھا جاتا ہے۔
