صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۳ - احرام کھولنے کا واقعہ

احرام کھولنے کا حکم: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۳

وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ : اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي ، فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ .

اسماء روایت:

جب سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کپڑے بدل کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے دور ہو جاؤ، تم مجھ سے دور ہو جاؤ، تو انہوں نے کہا کہ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں تم پر کود پڑوں گی؟

صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے مضمون کو چند الفاظ کے فرق کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئیں۔ پھر وہی حکم بیان ہوا کہ جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، وہ احرام کھول سکتا ہے، اور جس کے ساتھ ہدی ہو، وہ احرام پر قائم رہے۔ جب سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے احرام کھول کر کپڑے بدلے اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو انہوں نے احتیاط کی بات کہی۔ روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ احرام کے حکم میں ہدی کا ہونا یا نہ ہونا فرق ڈالتا ہے۔ حج تمتع، ہدی، اور احرام کھولنے کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت بتاتی ہے کہ بغیر ہدی احرام کھولنے کا حکم دیا گیا۔
  • ہدی والے شخص نے احرام برقرار رکھا۔
  • صحابہ کرام احرام کی حالت میں احتیاط کرتے تھے۔
  • ایک ہی واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ بھی نقل ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں