صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۴ - عمرہ کے بعد احرام کھولنا
عمرہ مکمل کرنے کے بعد حلال ہونا اور پھر حج کا احرام
صحیح مسلم : ۳۰۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۴
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ ، تَقُولُ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا ، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ ، وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ " ، قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ : أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ .
عبداللہ روایت:
اسماء ہمیشہ جب حجون کے اوپر گزرتیں (حجون بفتح قریب مکہ کی بلندی کی طرف اور جب جانے والا محصب پر چڑھتا ہے تو وہ داہنی طرف پڑتا ہے) فرماتیں کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ہم ان کے ساتھ یہاں اترے ہیں اور ہمارے پاس ان دنوں بوجھے کم تھے اور سواریاں تھوڑی تھیں اور توشہ قلیل تھا (یعنی عرب کی سادگی اور دنیا سے آزادگی تھی) اور میں نے اور میری بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اور فلانے فلانے شخصوں نے عمرہ کیا تھا، پھر جب ہم نے بیت اللہ کو چھوا (یعنی طواف اور سعی پوری کی) تو حلال ہو گئی، پھر تیسرے پہر کو حج کا احرام باندھا اور ہارون نے اپنی روایت میں کہا کہ روایت کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے مولیٰ نے اور ان کا نام عبداللہ نہیں لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا حجون کے مقام کو یاد کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت سامان کم تھا، سواریاں کم تھیں اور توشہ بھی تھوڑا تھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور چند دوسرے لوگوں نے عمرہ کیا۔ جب انہوں نے بیت اللہ کو چھوا، یعنی طواف اور متعلقہ عمل پورا کیا، تو وہ حلال ہو گئے۔ پھر تیسرے پہر حج کا احرام باندھا۔ یہ روایت عمرہ کے بعد حلال ہونے، حج تمتع، اور حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنے کے مسئلہ کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ مکمل ہونے کے بعد حلال ہونا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- حج کے لیے بعد میں دوبارہ احرام باندھنے کا ذکر آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں صحابہ سادگی کے ساتھ شریک تھے۔
- سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے دیکھے ہوئے عمل کو یاد رکھا اور بیان کیا۔
