صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۲ - ہدی والے اور بغیر ہدی والے کا حکم
حج تمتع کی حدیث: ہدی ہو تو احرام پر رہنا
صحیح مسلم : ۳۰۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ " ، فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ ، قَالَتْ : فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : قُومِي عَنِّي ، فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ ،
اسماء روایت:
ہم احرام باندھ کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی ہو وہ تو اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے۔“ اور میرے ساتھ ہدی نہ تھی سو میں نے احرام کھول ڈالا اور زبیر کے ساتھ ہدی تھی (یہ ان کے شوہر تھے) سو انہوں نے احرام نہ کھولا اسماء کہتی ہیں کہ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نکلی اور زبیر کے پاس جا بیٹھی تو انہوں نے کہا کہ تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ (اس لیے میں احرام ہوں اور یہ احتیاط اور تقویٰ کی بات ہے کہ شاید بی بی کی طرف مائل ہوں اور شہوت سے چھیڑ چھاڑ ہو) تو میں نے ان سے کہا کہ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں تمہارے اوپر کود پڑوں گی؟ (یہ انہوں نے ظرافت سے کہا کہ مرد ہو کر عورتوں سے کیا ڈرتے ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج تمتع، ہدی اور احرام کھولنے کا حکم بیان ہوا ہے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ احرام باندھ کر نکلیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، وہ احرام کھول دے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس ہدی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے احرام کھول دیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی تھی، اس لیے انہوں نے احرام نہ کھولا۔ اس روایت سے بات صاف ہوتی ہے کہ حکم ہر شخص کی حالت کے مطابق تھا۔ ہدی والا اور بغیر ہدی والا ایک ہی حکم میں نہیں رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس حاجی کے ساتھ ہدی ہو، وہ احرام پر قائم رہتا ہے۔
- جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، اسے احرام کھولنے کا حکم دیا گیا۔
- صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
- احرام کے مسائل میں اپنی حالت کو دیکھ کر حکم سمجھنا ضروری ہے۔
