صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۶ - امانت ضائع ہونے کی نشانی

امانت کی حدیث: کام نااہل کے سپرد کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " ، قَالَ : كَيْفَ إِضَاعَتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا أُسْنِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔“ پوچھا: یا رسول اللہ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ فرمایا ”جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ پوچھا گیا کہ امانت کیسے ضائع ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ یہاں امانت صرف مال رکھنے کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، منصب، فیصلہ، قیادت اور کام بھی امانت ہیں۔ جب کسی کام کے لیے اہل، دیانت دار اور قابل شخص کو چھوڑ کر نااہل کو آگے کیا جائے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں ذمہ داری دینے اور لینے دونوں میں احتیاط سکھاتی ہے۔ امانت دین کا اہم اصول ہے، اور نااہلی کو قبول کرنا امانت کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذمہ داری اہل شخص کو دینا امانت کا تقاضا ہے۔
  • نااہل کو منصب دینا امانت ضائع کرنے کی صورت ہے۔
  • امانت صرف مال نہیں، ہر ذمہ داری کو شامل ہو سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں