صحیح بخاری حدیث ۵۹ - امانت ضائع ہونا قیامت کی نشانی
امانت ضائع ہونا اور نااہل کو ذمہ داری دینا
صحیح بخاری : ۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : سَمِعَ مَا قَالَ ، فَكَرِهَ مَا قَالَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ لَمْ يَسْمَعْ ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ ، قَالَ : أَيْنَ أُرَاهُ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ قَالَ : هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ، قَالَ : كَيْفَ إِضَاعَتُهَا ؟ قَالَ : إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ بعض لوگ (جو مجلس میں تھے) کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس (دیہاتی) نے کہا (یا رسول اللہ!) میں موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت (ایمانداری دنیا سے) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع امانت اور قیامت کی نشانی ہے۔ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ اس وقت لوگوں سے بات کر رہے تھے، اس لیے گفتگو مکمل کرنے کے بعد اس سوال کا جواب دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جب امانت اٹھ جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے پوچھا کہ امانت اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ اس حدیث میں امانت کا مطلب صرف مال نہیں، بلکہ ذمہ داری اور اختیار بھی ہے۔ امانت، نااہل لوگوں کو کام دینا، قیامت کی نشانی اور ذمہ داری کا حق اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت ضائع ہونا قیامت کی نشانیوں میں بیان ہوا ہے۔
- کام نااہل لوگوں کے سپرد کرنا امانت ضائع کرنے کی صورت ہے۔
- ذمہ داری اہل آدمی کو دینا ضروری ہے۔
- سوال کا جواب مناسب وقت پر دینا بھی اس روایت سے سمجھ آتا ہے۔
