صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۹ - نبی صلى الله عليه وسلم کی عبادت کا معمول
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی عبادت ہمیشہ جاری رہتی تھی
صحیح مسلم : ۱۸۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۹
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ ؟ قَالَتْ : لَا ، " كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً " ، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ .
عائشہ روایت:
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا کیا حال تھا۔ آیا کسی دن کو کسی عبادت کے لئے خاص فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، ان کی عبادت ہمیشہ تھی اور تم میں سے کون آپ کی سی عبادت کر سکتا ہے جو وہ کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی دن کو خاص عبادت کے لیے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، آپ کا عمل ہمیشہ رہنے والا تھا۔ یہ بات “مسلسل عبادت” اور “دوام عمل” کو سمجھاتی ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ تم میں سے کون آپ جیسی عبادت کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مستقل تھا، مگر امت کے لوگوں کو اپنی طاقت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ عبادت کو صرف کبھی کبھار کے جوش تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے زندگی کا نرم اور مستقل معمول بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی عبادت مسلسل اور قائم رہنے والی تھی۔
- کسی خاص دن ہی پر عبادت کو محدود کرنا اس روایت میں ثابت نہیں۔
- امت کو اپنی طاقت کا خیال رکھتے ہوئے مستقل عمل اپنانا چاہیے۔
- عبادت میں پابندی وقتی جوش سے بہتر ہے۔
