صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۵ - بیٹھ کر نماز کا اجر
بیٹھ کر نماز آدھی نماز کے برابر: حدیث کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۱۷۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۵
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟ قُلْتُ : حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَنَّكَ قُلْتَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو روایت:
مجھ سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھے ہوئے نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہے“، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے پڑھ رہے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ہاتھ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہے اے عبداللہ!“ میں نے کہا کہ مجھے پہنچا ہے کہ آپ فرماتے ہیں اے اللہ کے رسول! کہ بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سچ ہے مگر میں تم لوگوں کے برابر نہیں ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بیٹھ کر نماز کا اجر ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھے ہوئے نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہے۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ادب کے ساتھ سوال کیا کہ آپ یہ فرماتے ہیں اور خود بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر میں تم لوگوں کے برابر نہیں ہوں۔ اس روایت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث کا ایک خاص پہلو ہے: عام حکم کا بیان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص حالت کا جواب۔ متن کے مطابق بات یہی ہے، اس سے آگے کوئی دعویٰ شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے بات سمجھنے کے لیے براہ راست سوال کیا۔
- حدیث میں بیٹھ کر نماز کو آدھی نماز کے برابر کہا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاص حالت کو واضح فرمایا۔
