صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۲ - نفل نماز میں ترتیل

بیٹھ کر نفل نماز اور ٹھہر ٹھہر کر قرأت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا " .

حفصہ روایت:

میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل پڑھا ہو یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال باقی رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نفل پڑھنے لگے اور سورت کو پڑھتے اور یہاں تک ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع نفل نماز اور ترتیل ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال باقی رہ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نفل پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھ ایک اور خوب صورت بات بیان ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے، یہاں تک کہ وہ سورت لمبی سے لمبی محسوس ہونے لگتی۔ یہ روایت بیٹھ کر نفل نماز کے ساتھ قرأت کے انداز کو بھی بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل توجہ دو باتوں پر ہے: آخری دور میں بیٹھ کر نفل پڑھنا، اور قرأت میں ٹھہراؤ رکھنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آخری سال کا مشاہدہ بیان کیا۔
  • روایت میں بیٹھ کر نفل پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
  • قرأت کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا انداز بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں