صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۱ - جسم بھاری ہونے پر بیٹھ کر نماز
جب جسم بھاری ہوا تو اکثر نماز بیٹھ کر پڑھنا
صحیح مسلم : ۱۷۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كلاهما ، عَنْ زَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ ، كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا " .
عائشہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فربہ ہو گئے اور بھاری ہو گئے تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع جسمانی بوجھ کے بعد بیٹھ کر نماز ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فربہ ہو گئے اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر ایک صاف مشاہدہ موجود ہے۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث میں یہ بات خاص طور پر آتی ہے کہ بعد کے زمانے میں جسمانی کیفیت کے ساتھ نماز کا انداز بھی بیان ہوا۔ یہ روایت نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے موضوع سے جڑی ہے، مگر ہمیں اسی متن کے مطابق بات کرنی چاہیے: جسم بھاری ہوا، اور اکثر نماز بیٹھ کر ہونے لگی۔ یہی اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جسمانی کیفیت کے ساتھ نماز کا عمل بیان کیا۔
- روایت میں اکثر نماز بیٹھ کر ہونے کا ذکر ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں سادگی ہے، اس لیے وضاحت بھی سادہ رہنی چاہیے۔
