صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۰ - آخری دور میں بیٹھ کر نماز
وفات سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر
صحیح مسلم : ۱۷۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۰
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
عائشہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا جب تک کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز نہ پڑھنے لگے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع آخری دور کی بیٹھ کر نماز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہونے لگی۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس میں ایک واضح بات بیان ہوئی ہے: آخر وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بڑا حصہ بیٹھ کر ادا ہونے لگا تھا۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث کے اندر یہ بیان خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس میں کسی سوال و جواب کے بجائے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا مشاہدہ نقل ہوا ہے۔ یہاں ہمیں اسی بات پر رہنا چاہیے کہ متن نے اکثر نماز بیٹھ کر ہونے کا ذکر کیا، اس سے آگے کوئی غیر موجود تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آخر دور کا مشاہدہ بیان کیا۔
- روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہونے کا ذکر ہے۔
- حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک وہ بیان کرتے ہیں۔
