صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۰ - تھوڑا عمل مگر ہمیشہ
دوام عمل کی حدیث: کم مگر ہمیشہ
صحیح مسلم : ۱۸۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۰
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ " ، قَالَ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے آگے سب سے پیارا عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔“ راوی نے کہا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ جب کوئی عبادت کرتیں اس کو ہمیشہ لازم کر لیتیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پیارا عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ راوی نے یہ بھی بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عبادت کرتیں تو اسے لازم کر لیتیں، یعنی جاری رکھتیں۔ اس سے “دوام عمل” کا مطلب اچھی طرح سمجھ آتا ہے۔ نیکی کا ایسا معمول جو انسان نبھا سکے، دین میں بہت قیمتی ہے۔ اس حدیث میں کسی ایک عبادت کو خاص نہیں کیا گیا، بلکہ اصول بتایا گیا ہے: عمل کو جاری رکھو۔ “أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل” اسی لیے لوگوں کے درمیان بہت معروف حدیث ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کو مستقل عمل محبوب ہے۔
- کم عمل بھی اہم ہے اگر پابندی سے کیا جائے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عمل کو جاری رکھنے کا معمول رکھتی تھیں۔
- نیکی کا ایسا معمول بنانا چاہیے جو نبھ سکے۔
