صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۹ - گیارہ رکعت کی ملتی جلتی روایت
رات کی گیارہ رکعت: روایت کے الفاظ میں فرق
صحیح مسلم : ۱۷۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۹
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ : وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الإِقَامَةَ ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍ وَسَوَاءً .
ابن شہاب روایت:
ابن شہاب مذکورہ حدیث کی مانند بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ فجر واضح ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا اور نہ ہی اقامت کا ذکر کیا باقی حدیث اس کے مانند ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع رات کی نماز کی تائیدی روایت ہے۔ ابن شہاب نے مذکورہ حدیث کی مانند بیان کیا، مگر اس روایت میں یہ الفاظ نہیں آئے کہ فجر واضح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا، اور نہ اقامت کا ذکر کیا گیا۔ باقی حدیث پچھلی روایت کے مانند ہے۔ یہ روایت ہمیں ایک اہم بات سکھاتی ہے کہ احادیث میں الفاظ کا فرق بھی محفوظ کیا جاتا ہے۔ تہجد کی رکعات، رات کی نماز، اور وتر کی روایت پڑھتے وقت ایسے فرق کو سمجھنا ضروری ہے، مگر اس میں اپنی طرف سے کوئی نئی بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔ اس متن کا اصل پیغام یہی ہے کہ مضمون وہی ہے، لیکن کچھ الفاظ اس سند میں ذکر نہیں ہوئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کے قریب ہے۔
- اس سند میں فجر واضح ہونے، مؤذن کے آنے اور اقامت کا ذکر نہیں ہے۔
- حدیث کے الفاظ کے فرق کو احتیاط سے نوٹ کرنا چاہیے۔
