صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۸ - عشاء سے فجر تک گیارہ رکعت
عشاء سے فجر تک گیارہ رکعت: وتر اور فجر کی سنتیں
صحیح مسلم : ۱۷۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۱۸
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے۔ سلام پھیرتے ہر دو رکعت کے بعد اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔ پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے چکتا اور ظاہر ہو جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح اور مؤذن آتا تو کھڑے ہو کر دو رکعت ہلکی ادا کرتے پھر داہنی کروٹ لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کو آتا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع قیام اللیل اور وتر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔ پھر جب فجر کی اذان ہو جاتی، صبح واضح ہو جاتی، اور مؤذن آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ اس کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن اقامت کے لیے آتا۔ یہ روایت تہجد کی رکعات، وتر ایک رکعت، اور فجر سے پہلے دو ہلکی رکعتوں کے بارے میں ایک مکمل ترتیب دیتی ہے۔ اس میں جو وقت اور طریقہ آیا ہے، وضاحت اسی کے مطابق رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔
- ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرنے اور ایک وتر پڑھنے کا بیان ہے۔
- فجر کی اذان کے بعد دو ہلکی رکعتیں اور دائیں کروٹ لیٹنا نقل ہوا ہے۔
